جسے عشق نبی ہوگا جسے عشق خدا ہوگا
سر محشر وہ زیر دامن خیر الورا ہوگا
ستارے زیر پا لپٹے فرشتوں نے قدم چومے
خوشی سے حور و غلماں اور سارے انبیاء جھومے
سر عرش بریں پہنچے نبی خلد بریں گھومے
شب معراج کا منظر وہ کیسا دلربا ہوگا
مدینہ ہے نبی کا دل ضروری ہے ادب رکھنا
جہاں پہ لازمی ہے احتراماً ہر نظر جھکنا
وہ ارض پاک ہے لازم ہے جس جا سر کے بل چلنا
وہاں زروں میں پنہاں مصطفی کا نقش پا ہوگا
قیامت آئے گی اکدن فنا ہو جائیگی دنیا
پھر اسکے بعد ہوگا ایک عالم نفسی نفسی کا
نہ ہوگا مونس و ہمدم کوئی ہوگا بشر تنہا
نگاہ یاس سے حضرت کی جانب دیکھتا ہوگا
قیامت خیز موجیں ہوں بھنور کہ شدت طوفاں
سمندر آزمائے یا ستائے گردش دوراں
یقیں پختہ عمل محکم جو دل ہو صاحب ایماں
یقیناً ناخدا اس کے سفینے کا خدا ہوگا
مرے اعمال نامہ میں نظر آئی گی کمی ان کو
پکڑ کر لے چلے سمت جہنم جس گھڑی مجھ کو
پکارا رحمت حق نے فرشتو چھوڑ دو اسکو
یہ عاقل ہے غلام مصطفی تم نے سنا ہوگا